Tuesday, 8 March 2022

میرا رب جب رات بنانے لگتا ہے

 میرا رب جب رات بنانے لگتا ہے

دن کا سارا بوجھ ٹھکانے لگتا ہے

رات پیالہ خوابوں سے بھر جائے تو

نیند سے تیرا خواب جگانے لگتا ہے

بارش کے موسم میں اکثر شام کوئی

مجھ کو تیری نظم سنانے لگتا ہے

کبھی کبھی کوئی جا دو سا ہو جاتا ہے

اور کوئی سپنا سچ ہوجانے لگتا ہے

کھڑا ہوں اپنے پاؤں پہ اور میرا سایا

آسمان کو ہاتھ لگانے لگتا ہے

آتا ہے جو دروازے کی درزوں سے

گھر میں تیرے نقش بنانے لگتا ہے

تم نے جو باندھا ہے رستہ پیڑوں سے

مجھ کو اپنے ساتھ چلانے لگتا ہے

شام گئے کوئی میرے دل کے کینوس پر

اشکوں سے تصویر بنانے لگتا ہے


سرفراز تبسم

No comments:

Post a Comment