میرا رب جب رات بنانے لگتا ہے
دن کا سارا بوجھ ٹھکانے لگتا ہے
رات پیالہ خوابوں سے بھر جائے تو
نیند سے تیرا خواب جگانے لگتا ہے
بارش کے موسم میں اکثر شام کوئی
مجھ کو تیری نظم سنانے لگتا ہے
کبھی کبھی کوئی جا دو سا ہو جاتا ہے
اور کوئی سپنا سچ ہوجانے لگتا ہے
کھڑا ہوں اپنے پاؤں پہ اور میرا سایا
آسمان کو ہاتھ لگانے لگتا ہے
آتا ہے جو دروازے کی درزوں سے
گھر میں تیرے نقش بنانے لگتا ہے
تم نے جو باندھا ہے رستہ پیڑوں سے
مجھ کو اپنے ساتھ چلانے لگتا ہے
شام گئے کوئی میرے دل کے کینوس پر
اشکوں سے تصویر بنانے لگتا ہے
سرفراز تبسم
No comments:
Post a Comment