Wednesday, 9 March 2022

گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر

گلا بیٹھا ہے کٹنے کی ہوس میں ہچکیاں بھر کر 

چلا ہے کوئی ترکش میں قفس کی تیلیاں بھر کر 

کھڑے ہو بارشوں کی آس میں کیا کشت دل والو 

کوئی بیٹھا ہوا ہے بادلوں میں بجلیاں بھر کر 

یہاں تو حرف کا ہونٹوں پہ آتے دم نکلتا ہے 

دل دیوانہ دامن میں چلا ہے عرضیاں بھر کر 

تبسم زیر لب بھی عشق کو موج تسلی ہے 

سمندر سو گیا دامن میں خالی سیپیاں بھر کر 

کسی نے جب دل برباد کا احوال پوچھا ہے 

بگولے رہگزر کی خاک لائے مٹھیاں بھر کر 

ہمارے شوق کا حاصل ہے یہ اب کوئی کیا ٹھہرے 

کھڑے ہیں جیب میں دامن کی اپنے دھجیاں بھر کر


رئیس علوی

No comments:

Post a Comment