Wednesday, 9 March 2022

وہ کسی اور سمت جاتے رہے

 وہ کسی اور سمت جاتے رہے

ہم فقط اپنا دل جلاتے رہے

اس کی انگڑائی کیا قیامت تھی

ہم نئے زاویے بناتے رہے

ہر طرف رات کا نظارہ تھا

دل بنا کر دیا جلاتے رہے

اس کے لہجے سے لگ رہا تھا کہ ہم

پتھروں کو غزل سناتے رہے

ہم فقط زاہدان خشک نہیں

بات بگڑی ہوئی بناتے رہے

اس کی آنکھیں تھیں عام سی آنکھیں

ہم سخن یوں ہی ڈگمگاتے رہے

دنیا روتی رہی مگر ہم لوگ

قہقہوں میں کسک چھپاتے رہے


احمد عقیل

No comments:

Post a Comment