Wednesday, 12 January 2022

گہری آنکھوں میں یہ کیسی ہے بچھڑتی محفلوں کی روشنی

 گہری آنکھوں میں یہ کیسی ہے بچھڑتی محفلوں کی روشنی

اجنبی لوگوں میں دیکھی میں نے اپنے دوستوں کی روشنی

منزلوں پر وہ پہنچ کر بھی ابھی تک منزلوں جیسا نہیں

اس کی سوچوں سے بندھی ہے راستے کے منظروں کی روشنی

اس کے میرے درمیاں پاکیزگی کا رقص تو ہوتا نہیں

ایک پردے کی طرح رہتی ہے ننگی خواہشوں کی روشنی

میں نے اس کو خواب میں دیکھا تو وہ اک اور ہی دنیا میں تھا

اس کے ہر جانب بکھرتی جا رہی تھی رت جگوں کی روشنی

اب تو اس کا درد بھی اجمل سمندر کی طرح گہرا نہیں

اس جزیرے میں بھٹکتی ہے اکیلے ساحلوں کی روشنی


اجمل نیازی

No comments:

Post a Comment