Wednesday, 12 January 2022

بے لباسی کو بہ کو ایسی نہ تھی

 بے لباسی کو بہ کو ایسی نہ تھی

زندگی بے آبرو ایسی نہ تھی

اس قدر نازک نہ تھا اس کا مزاج

تلخ میری گفتگو ایسی نہ تھی

دشتِ جاں میں ایسا سناٹا نہ تھا

یہ فضائے رنگ و بو ایسی نہ تھی

لمحہ لمحہ بوجھ بن کر رہ گیا

زندگی کی آرزو ایسی نہ تھی

رہن کرتے جا کے ہم اپنا ضمیر

خواہشِ جام و سبو ایسی نہ تھی

شعلۂ رخ سے بجھی آنکھوں کی پیاس

آگ میں پانی کی خو ایسی نہ تھی

شہر جانے کیوں ہوا اپنا حریف

شہر میں کچھ آبرو ایسی نہ تھی

کہہ رہا ہوں حال دل اغیار سے

دل کو تیری جستجو ایسی نہ تھی


ساغر مہدی

No comments:

Post a Comment