Friday, 17 December 2021

ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے

 ہم اکیلے ہی سہی شہر میں کیا رکھتے تھے

دل میں جھانکو تو کئی شہر بسا رکھتے تھے

اب کسے دیکھنے بیٹھے ہو لیے درد کی ضو

اٹھ گئے لوگ جو آنکھوں میں حیا رکھتے تھے

اس طرح تازہ خداؤں سے پڑا ہے پالا

یہ بھی اب یاد نہیں ہے کہ خدا رکھتے تھے

چھین کر کس نے بکھیرا ہے شعاعوں کی طرح

رات کا درد زمانے سے بچا رکھتے تھے

لے گئیں جانے کہاں گرم ہوائیں ان کو

پھول سے لوگ جو دامن میں صبا رکھتے تھے

کل جو دیکھا تو وہ آنکھوں میں لیے پھرتا تھا

ہائے وہ چیز کہ ہم سب سے چھپا رکھتے تھے

تازہ زخموں سے چھلک اٹھیں پرانی ٹیسیں

ورنہ ہم درد کا احساس نیا رکھتے تھے

یہ جو روتے ہیں لیے آنکھ میں ٹوٹے تارے

اپنے چہرے پہ کبھی چاند سجا رکھتے تھے

آج وہ شہرِ خموشاں کی طرح ہیں اجمل

کل تلک شہر میں جو دھوم مچا رکھتے تھے


اجمل نیازی

No comments:

Post a Comment