Saturday, 6 March 2021

سونے کے دل مٹی کے گھر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

 سونے کے دل مٹی کے گھر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

وہ گلیاں وہ شہر کے منظر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

اپنے آئینوں کو ہم نے روگ لگا رکھا ہے

کیا کیا چہرے ہم شیشہ گر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

تم اپنے دریا کا رونا رونے آ جاتے ہو

ہم تو اپنے سات سمندر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

دیکھو ہم نے اپنی جانوں پر کیا ظلم کیا ہے

پھول سا چہرہ چاند سا پیکر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

ہم بھی کیا پاگل تھے اپنے پیار کی ساری پونجی

اس کی اک اک یاد بچا کر پیچھے چھوڑ آئے ہیں

منزل سے اب دور نکل آئے ہیں قیسؔ تو خوش ہیں

ہمسائے کے کتے کا ڈر پیچھے چھوڑ آئے ہیں


سعید قیس

No comments:

Post a Comment