Saturday, 6 March 2021

شعر کہنے کا فن ملا ہوا ہے

 شعر کہنے کا فن مِلا ہوا ہے

خامشی میں سخن ملا ہوا ہے

اُسکے ہونٹوں کی ذیل میں مجھ کو

رنگِ لعلِ یمن ملا ہوا ہے

عکس ترتیب پا رہے ہیں مرے

آئینے کو بدن ملا ہوا ہے

سر بہ سر رقص میں مگن ہے ہوا

شاہ زادی کو بن ملا ہوا ہے

باغ کی سیر میں برائے خیال

حُسنِ سرو و سمن ملا ہوا ہے

خاک اڑاتا ہے وقت لمحوں کی

زیست کو پیرہن ملا ہوا ہے

قیس تم بچ نہ پاؤ گے ہرگز

راہ سے راہزن ملا ہوا ہے


ندیم قیس

No comments:

Post a Comment