شعر کہنے کا فن مِلا ہوا ہے
خامشی میں سخن ملا ہوا ہے
اُسکے ہونٹوں کی ذیل میں مجھ کو
رنگِ لعلِ یمن ملا ہوا ہے
عکس ترتیب پا رہے ہیں مرے
آئینے کو بدن ملا ہوا ہے
سر بہ سر رقص میں مگن ہے ہوا
شاہ زادی کو بن ملا ہوا ہے
باغ کی سیر میں برائے خیال
حُسنِ سرو و سمن ملا ہوا ہے
خاک اڑاتا ہے وقت لمحوں کی
زیست کو پیرہن ملا ہوا ہے
قیس تم بچ نہ پاؤ گے ہرگز
راہ سے راہزن ملا ہوا ہے
ندیم قیس
No comments:
Post a Comment