Saturday, 6 March 2021

اس کی آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے

 اس کی آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے

وقت کی نبض بھی تھمی سی ہے 

ہر طرف جوں کی توں ہے ہر اک شے 

کیوں طبیعت میں برہمی سی ہے 

کوئی اب تک سمجھ نہیں پایا 

زندگی گونگے آدمی سی ہے

 میری جاں تیری سرخئ لب میں 

خونِ دل کی مِرے کمی سی ہے 

اس سے حاصل نہیں فرار کبھی 

درد اک چیز لازمی سی ہے 

وہ فسردہ نظر نہیں آتا 

صرف پوشاک ماتمی سی ہے 

میرا دل بھاری ہو گیا ہے کمال

اس کی یادوں کی تہ جمی سی ہے 


احمد کمال حشمی

No comments:

Post a Comment