Thursday, 4 March 2021

خوشی ملی تو بہت ہی اداس بیٹھے رہے

 خوشی ملی تو بہت ہی اداس بیٹھے رہے

چلا گیا وہ  تو ہم اس کے پاس بیٹھے رہے

جمالِ یار کی لذت بیان کیا کرتے

نظر میں شوق بدن میں ہراس بیٹھے رہے

برہنگی ہی کچھ ایسی تھی شہرِ غربت کی

قبا پہن کے بھی ہم بے لباس بیٹھے رہے

یہ واقعہ مِری آنکھوں کے سامنے کا ہے

شراب ناچ رہی تھی، گلاس بیٹھے رہے

اسی کو حسنِ نظر کا کمال کہتے ہیں

تمام شب تِرے لذت شناس بیٹھے رہے

ٹھہر ٹھہر کے وہ دریا بُلا رہا تھا قیس

ہم اپنی آنکھوں میں بھر بھر کے پیاس بیٹھے رہے


سعید قیس

No comments:

Post a Comment