Tuesday, 9 March 2021

ہجر تنہائی کے لمحوں میں بہت بولتا ہے

 ہجر تنہائی کے لمحوں میں بہت بولتا ہے

رنگ اس کا کئی رنگوں میں بہت بولتا ہے

میں اسے چپ کے حوالے سے بھی کیسے لکھوں

وہ تو ایسا ہے کہ حرفوں میں بہت بولتا ہے

ایک لَو ہے کہ سرِ بام تھرکتی ہے بہت

اک دِیا ہے کہ دریچوں میں بہت بولتا ہے

اپنی آواز سنائی نہیں دیتی مجھ کو

ایک سناٹا کہ گلیوں میں بہت بولتا ہے

ایک ہی لَے سے ہے مانوس مِرا تارِ نفس

ایک ہی سُر میرے کانوں میں بہت بولتا ہے

چاٹ لیتی ہے مِرا جسم مِرے پیڑ کی دھوپ

میرا سایہ برے وقتوں میں بہت بولتا ہے

اکثر اوقات مِری ذات کا اک خالی پن

میری ٹوٹی ہوئی چیزوں میں بہت بولتا ہے

دل مِرا اس کی طرح پھول کے مانند ہے قیس

جو مِری بند کتابوں میں بہت بولتا ہے


سعید قیس

No comments:

Post a Comment