شاخ سے اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
پھول کو بکھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
عمر بیت سکتی ہے بات کو نبھانے میں
بات سے مُکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
یہ تِری جدائی کی یادگار ہے، ورنہ
ایک زخم بھرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
موج میں ہے شہرت کی تیرے نام کا دریا
موج کو اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
بال و پر سے جڑتا ہے سلسلہ اڑانوں کا
بال و پر کترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
ہیر، سوہنی، سَسی کہہ گئیں زمانے سے
عشق ہو تو مرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
لمس کی حرارت سے، ہاتھ آئی تتلی کے
رنگ کو اترنے میں دیر کتنی لگتی ہے
ایک وقت لگتا ہے ہجر سے نکلنے میں
وصل سے گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
ناصرہ زبیری
کمال ہے۔۔۔۔بہت خوب
ReplyDelete