Tuesday, 9 March 2021

کبھی تو صبح کبھی رات کو بدل ڈالا

 کبھی تو صبح کبھی رات کو بدل ڈالا 

کسی کی یاد نے لمحات کو بدل ڈالا 

ہم اپنی اپنی جگہ پر قیام کر نہ سکے 

مدار کھو کے مقامات کو بدل ڈالا 

اسے پتا تھا مِرے ساتھ مسئلہ کیا ہے

سو مسکرا کے مِری بات کو بدل ڈالا

میں چاہتا ہوں تجھے عمر بھر دعائیں دوں

جنونِ عشق! مِری ذات کو بدل ڈالا

ملال یہ ہے کہ یکسر بدل گیا تو بھی 

تھا تیرے واسطے، حالات کو بدل ڈال

تمہارے بعد مِرے گاؤں میں اداسی ہے 

تمہارے غم نے مضافات کو بدل ڈالا


راشد علی مرکھیانی

No comments:

Post a Comment