کبھی تو صبح کبھی رات کو بدل ڈالا
کسی کی یاد نے لمحات کو بدل ڈالا
ہم اپنی اپنی جگہ پر قیام کر نہ سکے
مدار کھو کے مقامات کو بدل ڈالا
اسے پتا تھا مِرے ساتھ مسئلہ کیا ہے
سو مسکرا کے مِری بات کو بدل ڈالا
میں چاہتا ہوں تجھے عمر بھر دعائیں دوں
جنونِ عشق! مِری ذات کو بدل ڈالا
ملال یہ ہے کہ یکسر بدل گیا تو بھی
تھا تیرے واسطے، حالات کو بدل ڈال
تمہارے بعد مِرے گاؤں میں اداسی ہے
تمہارے غم نے مضافات کو بدل ڈالا
راشد علی مرکھیانی
No comments:
Post a Comment