بھٹک رہا ہے کسی جستجو میں کب سے کوئی
کہ جس خشوع سے الجھا ہوا ہے رب سے کوئی
دعائیں باپ کی کرتی ہیں رقص سوچوں میں
کہ جب بھی نام پکارے مِرا ادب سے کوئی
مجھے تو خود سے بھی ملنا کہاں نصیب مگر
ہے انتظار میں میرے گزشتہ شب سے کوئی
کسی نے نام لیا میرا، اور پھر مجھ کو
سنائی دینے لگے قہقہے عجب سے کوئی
وہ مجھ سے پیار کرے اور اس قدر کہ مِرا
رسد سے ہو نہ تعلق، کبھی طلب سے کوئی
شیراز غفور
No comments:
Post a Comment