Sunday, 19 December 2021

بھٹک رہا ہے کسی جستجو میں کب سے کوئی

 بھٹک رہا ہے کسی جستجو میں کب سے کوئی

کہ جس خشوع سے الجھا ہوا ہے رب سے کوئی

دعائیں باپ کی کرتی ہیں رقص سوچوں میں

کہ جب بھی نام پکارے مِرا ادب سے کوئی

مجھے تو خود سے بھی ملنا کہاں نصیب مگر

ہے انتظار میں میرے گزشتہ شب سے کوئی

کسی نے نام لیا میرا، اور پھر مجھ کو

سنائی دینے لگے قہقہے عجب سے کوئی

وہ مجھ سے پیار کرے اور اس قدر کہ مِرا

رسد سے ہو نہ تعلق، کبھی طلب سے کوئی


شیراز غفور

No comments:

Post a Comment