تیرے میرے درمیاں یوں رابطہ رہ جائے گا
چاند کا دریا سے جیسے واسطہ رہ جائے گا
میری فرد جرم کو یہ سوچ کے تحریر کر
تُو چلا جائے گا لیکن فیصلہ رہ جائے گا
اپنے ہاتھوں سے چراغوں کو بجھاتے کیوں ہیں آپ
کچھ گماں ہے کچھ یقیں ہے راستہ رہ جائے گا
میری تُربت پر ملے گا آج جو ملتا نہیں
لوگ پوچھیں گے سبب وہ سوچتا رہ جائے گا
کر لیا ہے فیصلہ باہوں میں مرنا ہے تِری
زندگی تجھ سے ہے تیرے بعد کیا رہ جائے گا
آئینہ آنکھوں کو لکھنا تھا مگر سوچا نہ تھا
عمر بھر دستِ تصور آئینہ رہ جائے گا
گھر سے نکلی ہے تمنا اوڑھ کے اس کی غزل
دیکھ لینا یہ زمانہ دیکھتا رہ جائے گا
رقیہ غزل
No comments:
Post a Comment