Sunday, 19 December 2021

تیرے میرے درمیاں یوں رابطہ رہ جائے گا

 تیرے میرے درمیاں یوں رابطہ رہ جائے گا

چاند کا دریا سے جیسے واسطہ رہ جائے گا

میری فرد جرم کو یہ سوچ کے تحریر کر

تُو چلا جائے گا لیکن فیصلہ رہ جائے گا

اپنے ہاتھوں سے چراغوں کو بجھاتے کیوں ہیں آپ

کچھ گماں ہے کچھ یقیں ہے راستہ رہ جائے گا

میری تُربت پر ملے گا آج جو ملتا نہیں

لوگ پوچھیں گے سبب وہ سوچتا رہ جائے گا

کر لیا ہے فیصلہ باہوں میں مرنا ہے تِری

زندگی تجھ سے ہے تیرے بعد کیا رہ جائے گا

آئینہ آنکھوں کو لکھنا تھا مگر سوچا نہ تھا

عمر بھر دستِ تصور آئینہ رہ جائے گا

گھر سے نکلی ہے تمنا اوڑھ کے اس کی غزل

دیکھ لینا یہ زمانہ دیکھتا رہ جائے گا 


رقیہ غزل

No comments:

Post a Comment