Sunday, 19 December 2021

کسی خطا سے ہمیں انحراف تھوڑی ہے

 کسی خطا سے ہمیں انحراف تھوڑی ہے

ہمارا خود سے کوئی اختلاف تھوڑی ہے

بصارتوں کے علمدار ہیں یہاں کچھ لوگ

ہر اک نظر پہ اندھیرا غلاف تھوڑی ہے

کبھی تو ہم بھی تمہارا سراغ پا لیں گے

تمہارا شہر کوئی کوہ قاف تھوڑی ہے

یہ آئینہ تمہیں، تم سا دکھا نہیں سکتا

اگرچہ صاف ہے اتنا بھی صاف تھوڑی ہے

زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو

یہ جانتے ہیں سبھی انکشاف تھوڑی ہے

زمیں کا گھاؤ ہے مٹی سے بھر ہی جائے گا

ہمارے دل کی طرح کا شگاف تھوڑی ہے

ہم احتجاج بپا کر رہے ہیں اپنے خلاف

ہمارا شہر، ہمارے خلاف تھوڑی ہے

اسی لیے تو نہاتا ہے بارشوں میں وجود

ہے آبدیدہ، مگر اعتراف تھوڑی ہے


اشرف علی

No comments:

Post a Comment