پُرانی رُت کے قرینے سنبھال رکھے ہیں
دلوں میں کتنے دفینے سنبھال رکھے ہیں
رقابتوں کے ابھی تک سُلگتے صحرا میں
محبتوں کے مدینے سنبھال رکھے ہیں
مِرے خدا! ہے مجھے سامنا تلاطم کا
کہاں پہ تم نے سفینے سنبھال رکھے ہیں
میں ٹوٹ کر بھی جو بکھرا کبھی نہیں رویا
کہ آنسوؤں کے نگینے سنبھال رکھے ہیں
بہت کٹھن مِری منزل ہے جانتا ہوں میں
مشقتوں کے پسینے سنبھال رکھے ہیں
تمہارے وصل کی خواہش میں زندگی نے ابھی
نہ جانے کتنے مہینے سنبھال رکھے ہیں
بھٹک رہا ہوں میں صحراؤں میں مِرے مولا
کہاں سکوں کے خزینے سنبھال رکھے ہیں
حنیف دیپ
No comments:
Post a Comment