آج تک ہم نے دیکھی نہیں وہ سحر
جس سحر کے لیے کٹ گئے گھر کے گھر
رہنما لوٹ کر لے گئے قافلے
اہلِ دانش کھڑے دیکھتے رہ گئے
ظلم حاکم کے ہم پہ روا آج بھی
ہم وطن کے لیے ہر ستم سہ گئے
کرگسوں کی چمن پر حکومت رہی
ہر گلی، ہر نگر میں رعونت رہی
فاختہ کا نشیمن جلایا گیا
قُمریوں کے لیے بھی قیامت رہی
دور بدلے کئی، پر نہ بدلے سِتم
اپنی قسمت رہے، گولیاں اور بم
کس سے مانگیں بھلا خوں بہا دوستو
قتل بھی ہم ہوئے، اور قاتل بھی ہم
اہلِ دربار جتنے ہوئے سرخرو
ظلم اتنے غریبوں پہ ڈھائے گئے
کتنے معصوم کاندھوں سے اکثر یہاں
مامتاؤں کے لاشے اٹھائے گئے
قتل گاہیں شب و روز سجتی رہیں
خونِ ناحق کے دریا بھی بہتے رہے
کتنے اہلِ جنوں ملک کے پیار میں
طنز و دُشنام کے تیر سہتے رہے
جب کبھی آگ بھڑکی کسی شہر میں
اس کی زد میں تو مُفلس کی کُٹیا رہی
جیسے برطانوی راج میں ظلم تھا
آج بھی ہے وہی، آج بھی ہے وہی
جس نے ظالم کو ٹوکا، وہ باغی ہوا
جس نے کچھ نہ کہا شاد وہ بھی نہیں
نسل در نسل کی ہے غلامی یہاں
اپنے لوگوں پہ ہی تنگ اپنی زمیں
خون ہے ہر طرف، ہر طرف راکھ ہے
کون ہے جو رعونت پہ معمور ہے
کون پکڑے اسے قتل جس نے کیۓ
ایسا قاتل جو ایواں میں مشہور ہے
آج بھی ڈر کے سائے میں چاروں طرف
آج بھی ہیں مِرے لوگ سہمے ہوئے
آج بھی ہے وہی قیصریت یہاں
فرق اتنا ہے، انداز بدلے ہوئے
میرے پیارو! مرے غم گسارو، کہو
خود کو آزاد اب میں کہوں کس طرح
تاک میں میرے اپنے ہیں بیٹھے ہوئے
ایسے عالم میں زندہ رہوں کس طرح
صفی ربانی
No comments:
Post a Comment