Sunday, 19 December 2021

رفاقت کا جس دم اثر جائے گا

 رفاقت کا جس دم اثر جائے گا

نہ سودا رہے گا نہ سر جائے گا

جو بُجھنا ہی ٹھہرا دِیے کا نصیب

عجب کیا ہواؤں کے گھر جائے گا

کنارے پہ کب سے کھڑا ہے کوئی

سمندر میں شاید اُتر جائے گا

وفا کے قرینے کسے یاد ہیں

کسی کے لیے کون مر جائے گا

میں شبنم ہوں جس ابر کی مُنتظر

وہ برسے بِنا ہی گُزر جائے گا


صدیقہ شبنم

No comments:

Post a Comment