رفاقت کا جس دم اثر جائے گا
نہ سودا رہے گا نہ سر جائے گا
جو بُجھنا ہی ٹھہرا دِیے کا نصیب
عجب کیا ہواؤں کے گھر جائے گا
کنارے پہ کب سے کھڑا ہے کوئی
سمندر میں شاید اُتر جائے گا
وفا کے قرینے کسے یاد ہیں
کسی کے لیے کون مر جائے گا
میں شبنم ہوں جس ابر کی مُنتظر
وہ برسے بِنا ہی گُزر جائے گا
صدیقہ شبنم
No comments:
Post a Comment