تم آ کے یوں سمائے ہو تحت الشعور میں
جیسے پیۓ بنا کوئی آئے سرور میں
اتنا بھی سادہ ٹھیک نہیں دل کا یہ ورق
اک نام درج کیجیۓ بین السطور میں
آنکھیں حیا بدوش، لبوں پر ملے ہنسی
تم جیسی خوبیاں کہاں ہوتی ہیں حور میں
اک دوسرے کی ذات میں پیوست ہو گئے
ہم دونوں ہم خیال ہیں دل کے امور میں
دل جیت لو سبھی کے محبت سے آفتاب
قرآن میں یہی ہے، یہی ہے زبور میں
آفتاب چکوالی
آفتاب احمد خان
No comments:
Post a Comment