اندازِ شاعری ہے بہت دلربا مِرا
ہر ایک شعر ہوتا ہے سب سے جدا مرا
کوئی عمل کرے نہ کرے میری بات پر
ہوتا ہے مفت سب کے لیے مشورہ مرا
کرنا نہ پھر یہ شکوہ کہ میں حد سے بڑھ گیا
تم نے بڑھا دیا ہے بہت حوصلہ مرا
میری بھی زندگی کا یہ پہلا نہیں ہے پیار
پھر کیا ہوا کہ دوست نہیں با وفا مرا
غیروں سے بڑھ کے اپنوں نے لُوٹا سدا مجھے
اب میرے پاس باقی نہیں کچھ بچا مرا
احباب چاہے مجھ پہ کریں نہ کریں یقیں
جو بھی ہے میرے دل میں ہے رب جانتا مرا
بیچوں گا زہرِ عشق کو امرت کے مول میں
ہو جائے کامیاب اگر تجربہ مرا
آیا جو شیخ ملنے تو ہو جائے گا مرید
دیکھا نہیں ہے اس نے ابھی معجزہ مرا
ہوتا ہے وہ ہی ٹھیک جو کرتا ہے رب نعیم
رہتا ہے اس کے پیشِ نظر فائدہ مرا
نعیم چشتی
No comments:
Post a Comment