Saturday, 9 April 2022

کیسے ہنگام سے بلاتا ہے

 کیسے ہنگام سے بلاتا ہے

گزرے ایام سے بلاتا ہے

اب نہیں دل کی سننے والا میں

پھر اسی کام سے بلاتا ہے

ایک مہتاب ہے مِرے دل میں

اور اک بام سے بلاتا ہے

پیچھا کرتا ہے سایہ اک دن بھر

اک بدن شام سے بلاتا ہے

کسی آغاز سے پکارتا تھا

اب تو انجام سے بلاتا ہے

چاہ کر بھی میں جا نہیں پاتا

ایسے پیغام سے بلاتا ہے

وہ صدا دیتا ہے یقیں سے کبھی

کبھی ابہام سے بلاتا ہے

پہلے انداز خاص تھا اس کا

اب تو بس عام سے بلاتا ہے

جب بھی ملتا ہے وہ ستم پرور

اک نئے نام سے بلاتا ہے


ضمیر طالب

No comments:

Post a Comment