کیسے ہنگام سے بلاتا ہے
گزرے ایام سے بلاتا ہے
اب نہیں دل کی سننے والا میں
پھر اسی کام سے بلاتا ہے
ایک مہتاب ہے مِرے دل میں
اور اک بام سے بلاتا ہے
پیچھا کرتا ہے سایہ اک دن بھر
اک بدن شام سے بلاتا ہے
کسی آغاز سے پکارتا تھا
اب تو انجام سے بلاتا ہے
چاہ کر بھی میں جا نہیں پاتا
ایسے پیغام سے بلاتا ہے
وہ صدا دیتا ہے یقیں سے کبھی
کبھی ابہام سے بلاتا ہے
پہلے انداز خاص تھا اس کا
اب تو بس عام سے بلاتا ہے
جب بھی ملتا ہے وہ ستم پرور
اک نئے نام سے بلاتا ہے
ضمیر طالب
No comments:
Post a Comment