ہوئے محروم ٹھنڈے پانیوں سے
فریزر بھر گئے قربانیوں سے
تِرے جینے کا ساماں ہو رہا ہے
ہماری بے سر و سامانیوں سے
نہیں آتے پلٹ کر جانے والے
سکوں ملتا ہے نوحہ خوانیوں سے
تو پھر کچھ کر گزرتے ہم جہاں میں
نکل سکتے جو تن آسانیوں سے
ملا ہے احمقوں سے فیض ہم کو
سبق سیکھا بہت نادانیوں سے
نہیں اب کوئی انسانوں سے خطرہ
کہ ہم آباد ہیں ویرانیوں سے
یہ پاکستان بھی پائے ترقی
اگر خالی ہو پاکستانیوں سے
زیادہ دیر چل سکتا نہیں ہے
کوئی بھی کام بے ایمانیوں سے
کئی دن سے بہت نالاں ہوں نامی
دلِ نادان کی من مانیوں سے
رستم نامی
No comments:
Post a Comment