Saturday, 9 April 2022

دیر تک چند مختصر باتیں

 دیر تک چند مختصر باتیں

اس سے کیں میں نے آنکھ بھر باتیں

تُو مِرے پاس جب نہیں ہوتا

تجھ سے کرتا ہوں کس قدر باتیں

کیسی بے چارگی سے کرتے ہیں

بے اثر لوگ با اثر باتیں

دیکھ بچوں سے گفتگو کر کے

کیسی ہوتیں ہیں بے ضرر باتیں

سن کبھی بے خودی میں کرتے ہیں

بے خبر لوگ،۔ با خبر باتیں

اس کی عادت ہے بات کرنے کی

وہ کرے گا اِدھر اُدھر باتیں

انتہائی حسین لگتی ہے

جب وہ کرتی ہے رُوٹھ کر باتیں

آ مجھے سن کہ ہو تجھے معلوم

کیسی ہوتی ہیں خوب تر باتیں

سہل کٹ جائے یہ طویل سفر

اور کر میرے ہمسفر باتیں

کوئی سنتا نہ ہو کہیں عاصم

یوں نہ کر اس سے فون پر باتیں


صباحت عاصم واسطی

No comments:

Post a Comment