دکھ کچھ ایسے لڑ جاتے ہیں
آنسو بھی کم پڑ جاتے ہیں
کوئی دعائیں روک رہا ہے
بنتے کام بگڑ جاتے ہیں
نم آنکھوں میں پڑے رہیں تو
سپنے بھی گل سڑ جاتے ہیں
ٹھوکر پہ رکھتے ہیں دنیا
دل جب ضد پر اڑ جاتے ہیں
دیکھ کے اس کی منکر آنکھیں
لفظ لبوں میں گڑ جاتے ہیں
ہجر نہیں پت جھڑ ہے جس سے
یونہی پیڑ اُجڑ جاتے ہیں
آنکھ میں وحشت کی پہنائی
دیکھ کے دشت سُکڑ جاتے ہیں
صائمہ اسحاق
No comments:
Post a Comment