Thursday, 22 April 2021

دکھ کچھ ایسے لڑ جاتے ہیں

 دکھ کچھ ایسے لڑ جاتے ہیں

آنسو بھی کم پڑ جاتے ہیں

کوئی دعائیں روک رہا ہے

بنتے کام بگڑ جاتے ہیں

نم آنکھوں میں پڑے رہیں تو

سپنے بھی گل سڑ جاتے ہیں

ٹھوکر پہ رکھتے ہیں دنیا

دل جب ضد پر اڑ جاتے ہیں

دیکھ کے اس کی منکر آنکھیں

لفظ لبوں میں گڑ جاتے ہیں

ہجر نہیں پت جھڑ ہے جس سے

یونہی پیڑ اُجڑ جاتے ہیں

آنکھ میں وحشت کی پہنائی

دیکھ کے دشت سُکڑ جاتے ہیں


صائمہ اسحاق

No comments:

Post a Comment