اندھیرا روشنی کی سرزنش سے نکلے گا
مِرا ستارہ بھی تیری کشش سے نکلے گا
اُدھیڑ دی گئی قدموں تلے زمین تو کیا
مگر اشارہ الگ ہی روش سے نکلے گا
اٹھائے گا وہ کسی روز اپنا دستِ شفا
یہ خارِ نو بھی پرانی خلش سے نکلے گا
کرے گا ماند تِرا پورا شہرِ آئینہ
وہِ عکسِ رمز جو حسنِ تپش سے نکلے گا
اجال دے گا یہ کرنوں سے آفتاب تِرا
وہ معجزہ بھی مہِ پُرکشش سے نکلے گا
صائمہ اسحاق
No comments:
Post a Comment