جھک رہا ہے وقت کا یہ آسماں
کیا خبر پھر شام ہو جائے کہاں
پھر ملیں گے کہہ کے یہ بچھڑے تھے تم
اب سمٹتی ہی نہیں ہیں دوریاں
پر لگا کر اڑ رہے ہیں ماہ و سال
ختم ہونے کو ہے جیسے اب جہاں
شام سے پہلے بھی جو لوٹے نہیں
اب انہیں تقدیر ہی لائے گی یاں
کہہ رہی ہیں سلوٹیں حالات کی
پھٹ پڑے نہ اب کوئی آتش فشاں
چھیڑیے ایسی غزل کوئی کہ جو
توڑ کے رکھ دے سبھی خاموشیاں
شگفتہ غزل
No comments:
Post a Comment