Friday, 16 April 2021

جھک رہا ہے وقت کا یہ آسماں

 جھک رہا ہے وقت کا یہ آسماں

کیا خبر پھر شام ہو جائے کہاں

پھر ملیں گے کہہ کے یہ بچھڑے تھے تم

اب سمٹتی ہی نہیں ہیں دوریاں

پر لگا کر اڑ رہے ہیں ماہ و سال

ختم ہونے کو ہے جیسے اب جہاں

شام سے پہلے بھی جو لوٹے نہیں

اب انہیں تقدیر ہی لائے گی یاں

کہہ رہی ہیں سلوٹیں حالات کی

پھٹ پڑے نہ اب کوئی آتش فشاں

چھیڑیے ایسی غزل کوئی کہ جو

توڑ کے رکھ دے سبھی خاموشیاں


شگفتہ غزل

No comments:

Post a Comment