Friday, 16 April 2021

کسی نے جیسے قسم کھائی ہے ستانے کی

کسی نے جیسے قسم کھائی ہے ستانے کی

ہمیں پہ ختم ہیں سب گردشیں زمانے کی

چمن میں گل بھی کھلے مسکرائے غنچے بھی

ہمیں ہی راس نہ آئی فضا زمانے کی

کہ جس کے انتظار میں ہوئے زمانے سے ہم غافل

اس نے ذرا بھی دیر نہ کی ہم کو بھول جانے کی

لگی ہے چوٹ یاسمین کہ اب تک نہیں تھمے آنسو

لبوں نے آج خطا کی تھی مسکرانے کی


شگفتہ یاسمین

No comments:

Post a Comment