کسی نے جیسے قسم کھائی ہے ستانے کی
ہمیں پہ ختم ہیں سب گردشیں زمانے کی
چمن میں گل بھی کھلے مسکرائے غنچے بھی
ہمیں ہی راس نہ آئی فضا زمانے کی
کہ جس کے انتظار میں ہوئے زمانے سے ہم غافل
اس نے ذرا بھی دیر نہ کی ہم کو بھول جانے کی
لگی ہے چوٹ یاسمین کہ اب تک نہیں تھمے آنسو
لبوں نے آج خطا کی تھی مسکرانے کی
شگفتہ یاسمین
No comments:
Post a Comment