حصارِ ذات میں رہتی ہوں، بولتی نہیں ہوں
تمہارے ظلم تو سہتی ہوں بھولتی نہیں ہوں
لکھا ہے جو بھی مقدر میں، ہو ہی جائے گا
تمہاری طرح زیادہ میں سوچتی نہیں ہوں
بس ایک بار کا انجام یاد رہتا ہے
تمہارے بعد کسی سے میں روٹھتی نہیں ہوں
چراغ بجھنے لگیں گے تو جاگ اٹھوں گی
سحر ہوں رات کو آزاد چھوڑتی نہیں ہوں
رخسانہ سحر
No comments:
Post a Comment