بعد تیرے یہ شام کے منظر
اب کسی بھی نہ کام کے منظر
کب سے دیکھے نہیں ہیں کھڑکی نے
تیرے میرے سلام کے منظر
میری آنکھوں کے چار سُو اب تک
سب تمہارے ہیں نام کے منظر
میرے دل کے چہار خانوں میں
تیرے اونچے مقام کے منظر
دل پہ لکھے گئے ہیں وہ میرے
تیرے میرے وہ شام کے منظر
دل میں اک گُدگُدی سی ہوتی ہے
دل میں تیرے قیام کے منظر
اے شگفتہ قسم وفا کی تجھے
بھولنا مت پیام کے منظر
شگفتہ ناز
No comments:
Post a Comment