بہاروں پر تسلط ہے خزاں کا
برا دن آ گیا ہے گلستاں کا
رہائی غم سے ناممکن سی لگتی
یہی حاصل ہے سعئی رائیگاں کا
مقدر ہے ہمارا بے پناہی
یہاں پر ذکر مت کیجئے اماں کا
فریب و رہزنی، شورش، دھماکے
کوئی عنوان رکھ دیجئے بیاں کا
زہے قسمت ،وطن کو کام آئیں
کریں بھی پیش ہم نذرانہ جاں کا
کبھی سونچا بھی ہے جب ہم نہ ہوں گے
تو کیا ہو گا تمہارے آستاں کا
ستم سہنے کی طاقت اپنی خوشتر
کرم ہے بس اسی اک مہر باں کا
منصور خوشتر
No comments:
Post a Comment