Tuesday, 16 November 2021

منظر چشم جو پر آب ہوا جاتا ہے

 منظرِ چشم جو پُر آب ہوا جاتا ہے

چمنِ دل مِرا شاداب ہوا جاتا ہے

وہی قطرہ جو کبھی کنج سر چشم میں تھا

اب جو پھیلا ہے تو سیلاب ہوا جاتا ہے

ایک احساس تھا جو غم سے دبا رہتا تھا

ساز غم کا وہی مضراب ہوا جاتا ہے

اس کی پلکوں پہ جو چمکا تھا ستارہ کوئی

دیکھتے دیکھتے مہتاب ہوا جاتا ہے

وہ جو شیریں دہن اس شہر میں آیا ہے مِرے

اس کا بولا ہوا شہداب ہوا جاتا ہے

مجھ کو معلوم ہے گرداب نظر کا دھوکا

جو بھی احمق ہے وہ بے تاب ہوا جاتا ہے


کوثر مظہری

No comments:

Post a Comment