Tuesday, 7 December 2021

تیرگی کی شدت کو صبح کا ستارہ لکھ

 تیرگی کی شدت کو صبح کا ستارا لکھ

پھیلنے ہی والا ہے ہر طرف اجالا لکھ

رزم گاہِ ہستی میں یوں بُرا نہ سوچ اپنا

دشمنوں کے اندر کے صلح جُو کو اچھا لکھ

نقشِ پا کے جنگل میں کیا شمار رستوں کا

ہے جدا زمانے سے لیکن اپنا رستہ لکھ

بے حسی کا یہ جادو ٹوٹ ہی تو جائے گا

اس لیے نہ قریے کو پتھروں کا صحرا لکھ

اس نگر کے لوگوں کو پہلے بخش بینائی

اور بعد میں خود کو اس نگر کا عیسیٰ لکھ

حرف ذہن میں بیدی رنگ سے تہی کب ہیں

صرف تیرا کاغذ ہے جو ابھی ہے سادہ لکھ


جاوید اختر بیدی

No comments:

Post a Comment