Tuesday, 7 December 2021

عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں

 عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں

اور دل مائل ہوس بھی نہیں💚

اب کہاں جائیں گے خرابِ بہار

آشیاں بھی نہیں، قفس بھی نہیں

برق کی بے کسی کو روتا ہوں

اب نشیمن میں خار و خس بھی نہیں

کس نے دیکھا شگفتگی کا مآل

زندگی اتنی دُور رس بھی نہیں

ہم اسیروں کے واسطے سرشار

رسمِ پابندئ قفس بھی نہیں


سرشار صدیقی

No comments:

Post a Comment