عشق تک اپنی دسترس بھی نہیں
اور دل مائل ہوس بھی نہیں💚
اب کہاں جائیں گے خرابِ بہار
آشیاں بھی نہیں، قفس بھی نہیں
برق کی بے کسی کو روتا ہوں
اب نشیمن میں خار و خس بھی نہیں
کس نے دیکھا شگفتگی کا مآل
زندگی اتنی دُور رس بھی نہیں
ہم اسیروں کے واسطے سرشار
رسمِ پابندئ قفس بھی نہیں
سرشار صدیقی
No comments:
Post a Comment