Thursday, 13 October 2022

سامان تو گیا تھا مگر گھر بھی لے گیا

 سامان تو گیا تھا مگر گھر بھی لے گیا

اب کے فساد دل سے مِرے ڈر بھی لے گیا

خیرات بٹ رہی تھی درِ شہریار پر

سنتے ہیں اب کے بھیک سکندر بھی لے گیا

ماں نے بچا کے رکھا تھا بیٹی کے واسطے

بیٹا ہوا جواں تو یہ زیور بھی لے گیا

آیا تھا ہر کسی کو محبت سے جیتنے

کچھ زخم اپنے سینے کا ساغر بھی لے گیا


ساغر اعظمی

No comments:

Post a Comment