Thursday, 13 October 2022

حسن ہے مغرور دل سودائی ہے

 حسن ہے مغرور دل سودائی ہے

عشق اور نفرت میں ہاتھا پائی ہے

دھڑکنوں میں کر دیا پیدا فساد

ہر ادا میں تیری اک بلوائی ہے

ہم نے خود دیکھی ہے دستِ غیر میں

تیری تو تصویر بھی ہرجائی ہے

وجد آنکھوں میں ہے باسی نیند کا

وصل کی جب سے کرم فرمائی ہے

تم کو دیکھے بِن گزرنا چھیڑ تھا

دل پہ مت لو داغ دل دکھ دائی ہے

دل لگی ہے ابتدائے دلبری

چاہتوں میں چھیڑ چھاڑ اچھائی ہے

کتنی شرمیلی ہے منان اس کی یاد

درد کے پردے میں چھپ کر آئی ہے


منان بجنوری

No comments:

Post a Comment