Thursday, 13 October 2022

نکلی جو دعا دل سے گئی جانب افلاک

 نکلی جو دعا دل سے، گئی جانب افلاک

پھر خود ہی ہوئی ظلم اور باطل کی قبا چاک

کس طرح خد و خال تراشے یہ حُسن کا

کیا اس کے تصور میں ہے کمہار کا وہ چاک

اب موسمِ گُل میں ہے پُھوٹی کون سی وبا

اب مرحلۂ شوق کی حالت ہے کربناک

مغرب ہے پشیماں کہ کرے کون سی دوا

اب کبر و تکبر کی ہوئی آنکھ بھی نمناک

مدت سے میری دید ہے اس انتظار میں

بس ایک ہی جلوہ دکھا اے صاحبِ لولاک

تخلیقِ کائنات کے اسرار و رمز دیکھ

یا من کا خلا دیکھ، یا وسعتِ افلاک

میری نگاہِ ناز میں مضمر ہے کائنات

پھر چشمِ تصور سے ہو اس راز کا ادراک

پھر جلوۂ انوار کو شاہین دیکھے گا

پرواز میں ہوں اگر تن من و نگاہ پاک


فاروق شاہین

No comments:

Post a Comment