Saturday, 6 March 2021

خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھی

 خواب آنکھوں میں نہاں ہے اب بھی

بجھ گئی آگ دھواں ہے اب بھی

وہ مِرے پاس نہیں ہے لیکن

اس کے ہونے کا گماں ہے اب بھی

کیا بہادر کوئی آیا ہی نہیں

راہ میں سنگِ گراں ہے اب بھی

کوئی پیاسا ہی نہیں ہے ورنہ

چشمۂ‌ شوق رواں ہے اب بھی

گھر کو کاندھے پہ لیے پھرتا ہوں

مجھ میں یہ تاب و تواں ہے اب بھی

میں تعلق سے پرے ہوں لیکن

مجھ سے وابستہ جہاں ہے اب بھی


احتشام اختر

No comments:

Post a Comment