ہمنوائی کے دُکھ، بے نوائی کے دُکھ
کیا بتائیں تمہیں دلربائی کے دکھ
خوف، ویرانیاں، تلخیاں، بے بسی
سب کے سب پیار کی ہیں کمائی کے دکھ
تم نہ جانو گے پھیکی ہتھیلی ہے کیا
تم نہ سمجھو گے سُونی کلائی کے دکھ
یہ ستم ہے وہی بے وفائی کرے
جس نے جھیلے ہوں خود بیوفائی کے دکھ
گو زلیخا ہوں پھر بھی سمجھتی ہوں میں
مِرے یوسف تِری پارسائی کے دکھ
معجزہ، معجزہ، اے خدا! معجزہ
مار ڈالیں گے ورنہ جدائی کے دکھ
دکھ سے ثروت ہے رشتہ مِرا خون کا
لکھتی رہتی ہوں ساری خدائی کے دکھ
ثروت مختار
No comments:
Post a Comment