Saturday, 6 March 2021

حق بات پہ مرتا ہوں تو مرنے نہیں دیتے

 حق بات پہ مرتا ہوں تو مرنے نہیں دیتے

یہ اہلِ جہاں کچھ بھی تو کرنے نہیں دیتے

اس پار کی باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن

کشتی کوئی اس پار اترنے نہیں دیتے

ہر جرم مِرے نام کیے جاتے ہیں لیکن

خود پر کوئی الزام وہ دھرنے نہیں دیتے

ہے فکر انہیں مر کے بھی میں زندہ رہوں گا

یہ سوچ کے ظالم مجھے مرنے نہیں دیتے

اس دہر کے مقتل میں بپا ظلم ہے ایسا

مظلوم کو فریاد بھی کرنے نہیں دیتے

راجس انہیں دعویٰ ہے بہت چارہ گری کا

رِستے ہوئے زخموں کو جو بھرنے نہیں دیتے


بوٹا خان راجس

No comments:

Post a Comment