دل میں رہتی ہے آرزُو تیری
آنکھ کرتی ہے جستجُو تیری
ہم نے خاموش رہ کے محفل میں
آج پھر رکھ لی آبرُو تیری
بُوٹا بُوٹا بھی ذکر ہے تیرا
غُنچہ غُنچہ ہے گُفتگو تیری
تیری عظمت کا معترف یوں ہوں
بات کرتا ہوں با وضُو تیری
نکہتِ گُل میں بعدِ سیرِ چمن
پھیلتی ہے بس ایک بُو تیری
آئینے میں جمیل اتری ہے
عکس کے ساتھ اب کے خُو تیری
جمیل حیات
No comments:
Post a Comment