بدکار
اچھا چلو مان لیا
ننگے بازو والیاں اور مغرب کے بعد گھر سے نکلنے والیاں
ساری حرافائیں ہیں
تمہارا حق بنتا ہے کہ
اپنے ہاتھوں سے ان کی پُشتوں اور کمروں کو سہلاؤ
آتے جاتے دیدے پھٹی آنکھوں سے ان کے سائز ناپو
مگر میرے فرعون بھیا، ان کا کیا؟
جو مغرب کے بعد گھر سے نہیں نکلتیں
تمہارے بدبودار ہاتھوں کی پہنچ سے بہت دور
اپنی ورچوئل سپیس میں رہتی ہیں
یوگا سکھاتی ہیں
زندگی پڑھاتی ہیں
شاعری سناتی ہیں
پہنچ سے دور لگتی ہیں
بس نہیں چلتا ناں؟
ہاتھ میں کھجلی ہوتی ہے؟
اسی لیے اپنی بدبودار، ہوس زدہ شکلیں لے کر
کھڑکیوں سے جھانکتے ہو
اور جب ہاتھ میں
کسی کی کمر، کسی کی پشت، کسی کا سینہ نہیں آتا
اور کھجلی سے جان جاتی ہے
تو ننگی تصویریں بھیجتے ہو
کہ جیسے یہ ہاتھ کی کھجلی مٹا دیں گی
کوئی کیا بگاڑ لے گا “ سوچ کر حشر مچانے والے”
بھائی صاب! مگر یاد رہے
بازار میں ہو گے تم شیر
اس ورچوئل دنیا میں ایک سکرین شاٹ کی مار ہو
یہاں سلیبرٹی بننے میں دیر نہیں لگتی
رفعت جبیں
No comments:
Post a Comment