بازو، لہریں، کشتی، جسم، جزیرہ ناپتے رہتے ہیں
ہم وہ پیاسے ہیں جو پیاس کا لہجہ ناپتے رہتے ہیں
ہاتھ بڑھا کر چھو لینے کی دوری پر ہیں ہم دونوں
ہم دونوں جو دو قطبین کا فاصلہ ناپتے رہتے ہیں
پہلے تو اک شخص کے اندر ڈھونڈنے لگتے ہیں خود کو
پھر اس شخص کے اندر اپنا حصہ ناپتے رہتے ہیں
گریہ کرنے کی آزادی ہو یا تن کو ڈھانپنے کی
ہم دیوار کے اوپر تیرا سایہ ناپتے رہتے ہیں
وہ گھڑیاں جو روشن لمس کی بیداری سے زندہ ہوں
ان کی ٹک ٹک سنتے سال مہینہ ناپتے رہتے ہیں
ہریالی کی رُت میں فصلیں بو لیتی ہیں خوابوں کی
جن آنکھوں سے بہتے آنسو چہرہ ناپتے رہتے ہیں
خوشبو بادل چاند ستارے سات فلک، حسنی کا دل
تیرے قدموں میں رکھنے کو تحفہ ناپتے رہتے ہیں
ذوالقرنین حسنی
No comments:
Post a Comment