کیسے خواہش کو مار کر سمجھے
میری وحشت شمار کر، سمجھے
بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتیں
بوجھ سر سے اتار کر سمجھے
حسن مستور ہو تو جادو ہے
لوگ کپڑے اتار کر سمجھے
کچھ نہیں ہے انا کی چوٹی پر
لوگ عمریں گزار کر سمجھے
سچ ہے نفرت میں کچھ نہیں رکھا
ہم محبت کو مار کر سمجھے
خالد ندیم شانی
No comments:
Post a Comment