Thursday, 12 November 2020

کیسے خواہش کو مار کر سمجھے

 کیسے خواہش کو مار کر سمجھے

میری وحشت شمار کر، سمجھے

بیٹیاں بوجھ تو نہیں ہوتیں

بوجھ سر سے اتار کر سمجھے

حسن مستور ہو تو جادو ہے

لوگ کپڑے اتار کر سمجھے

کچھ نہیں ہے انا کی چوٹی پر

لوگ عمریں گزار کر سمجھے

سچ ہے نفرت میں کچھ نہیں رکھا

ہم محبت کو مار کر سمجھے


خالد ندیم شانی

No comments:

Post a Comment