آنکھ کو واقفِ آزار رکھا جائے گا
روشنی اب تجھے بیمار رکھا جائے گا
تیرے ہمراہ فقط میری دعا جائے گی
مجھ کو سامان میں بے کار رکھا جائے گا
اس کو الفت کے عزائم سے بری کرنے تک
مجھ کو فی الحال خطا کار رکھا جائے گا
اس کو دیکھیں گے مگر دل میں اتاریں گے نہیں
آنکھ کا راستہ دشوار رکھا جائے گا
ایک دن کے لیے عشاق کو چھٹی ہو گی
اہلِ دل کے لیے تہوار رکھا جائے گا
عہدِ حاضر کے یہ مجنوں ہیں شکیل ان کیلئے
دشت میں سایۂ دیوار رکھا جائے گا
شکیل پتافی
No comments:
Post a Comment