Thursday, 12 November 2020

فاصلے درمیاں اس قدر ہو گئے

 فاصلے درمیاں اس قدر ہو گئے

مطمئن ہم انہیں بھول کر ہو گئے

زندگی یہ ہوئی، صورتِ خواب بھی

اور کبھی خواب کچھ خوب تر ہو گئے

جو کہا گر کبھی، وہ فقط تھی خطا

ان کہے سب گلے، معتبر ہو گئے

سوچتے ہیں سفر اب کٹے کس طرح

دور ہم سے کئی ہم سفر ہو گئے

بھول ہی ہم گئے داستاں وہ تمام

ثبت کچھ لہجے دل پر مگر ہو گئے

جانتے ہیں، کبھی تھے وہ اہلِ وفا

اور پھر بے وفا عمر بھر ہو گئے


نوشین راؤ

No comments:

Post a Comment