فاصلے درمیاں اس قدر ہو گئے
مطمئن ہم انہیں بھول کر ہو گئے
زندگی یہ ہوئی، صورتِ خواب بھی
اور کبھی خواب کچھ خوب تر ہو گئے
جو کہا گر کبھی، وہ فقط تھی خطا
ان کہے سب گلے، معتبر ہو گئے
سوچتے ہیں سفر اب کٹے کس طرح
دور ہم سے کئی ہم سفر ہو گئے
بھول ہی ہم گئے داستاں وہ تمام
ثبت کچھ لہجے دل پر مگر ہو گئے
جانتے ہیں، کبھی تھے وہ اہلِ وفا
اور پھر بے وفا عمر بھر ہو گئے
نوشین راؤ
No comments:
Post a Comment