Sunday, 13 December 2020

خموش ہونٹوں سے سارے کلام کرنے لگے

 خموش ہونٹوں سے سارے کلام کرنے لگے 

وہ سب کے سب ترے بارے کلام کرنے لگے 

ڈھلی جو شام تو اشکوں سے گفتگو تھی مری 

پھر اس کے بعد ستارے کلام کرنے لگے 

تمہارا ذکر چھڑا جب تو معجزہ یہ ہوا 

کہ جتنے گونگے تھے سارے کلام کرنے لگے 

تری اداسیوں بے چینیوں سے ظاہر ہے 

کہ اب یہ زخم ہمارے کلام کرنے لگے 

کسی کے سامنے گلزار آگ ہونے لگی 

کسی کے جسم سے آرے کلام کرنے لگے 

ہماری غزلوں کا تاثیر آسرا لے کر 

تمہارے ہجر کے مارے کلام کرنے لگے 


تاثیر جعفری

No comments:

Post a Comment