Sunday, 13 December 2020

وجود وجد مناتا تھا دل تڑپتا تھا

 وجود وجد مناتا تھا، 💓دل تڑپتا تھا

میں رقص میں سے اذیت کشید کرتا تھا

وہ ایک پھول مدینے کا پھول تھا لوگو

اس ایک پھول سے سارا جہاں مہکتا تھا

پھر ایسا کیا کہ تجھے توڑنا پڑا دل کو

ترا تو ایسے کھلونوں سے من بہلتا تھا

حصارِ وقت سے گویا خلا نکلتے تھے

بس ایک نام ہمارا وجود بھرتا تھا

تمام میں کہ ترے عشق میں مقفل تھا

بس ایک دل کہ تجھے پوجنے سے ڈرتا تھا

وہ ایک تو جو مرے فلسفے سے ناواقف

وہ ایک میں جو ترا مسئلہ سمجھتا تھا


داؤد سید

No comments:

Post a Comment