رستہ کوئی فرار کا یکسر نہیں ملا
دیوار مل گئی ہے ابھی در نہیں ملا
کم پڑ رہی تھی ایک نشست اس کی بزم میں
وہ اس لیے کسی سے بھی اٹھ کر نہیں ملا
سب آئینے ہی شہر میں ٹوٹے ہوئے ملے
لیکن کسی کے ہاتھ میں پتھر نہیں ملا
وہ چاہتا تھا ہم سے بھی بہتر ملے اسے
اس کو کوئی ہمارے برابر نہیں ملا
ورنہ جواب دیتی میں اس کو سکوت کا
مجھ کو ندی کے سامنے کنکر نہیں ملا
امن شہزادی
No comments:
Post a Comment