Wednesday, 9 March 2022

رستہ کوئی فرار کا یکسر نہیں ملا

 رستہ کوئی فرار کا یکسر نہیں ملا

دیوار مل گئی ہے ابھی در نہیں ملا

کم پڑ رہی تھی ایک نشست اس کی بزم میں

وہ اس لیے کسی سے بھی اٹھ کر نہیں ملا

سب آئینے ہی شہر میں ٹوٹے ہوئے ملے

لیکن کسی کے ہاتھ میں پتھر نہیں ملا

وہ چاہتا تھا ہم سے بھی بہتر ملے اسے

اس کو کوئی ہمارے برابر نہیں ملا

ورنہ جواب دیتی میں اس کو سکوت کا

مجھ کو ندی کے سامنے کنکر نہیں ملا


امن شہزادی

No comments:

Post a Comment