مجھ کو سزائے موت کا دھوکا دیا گیا
میرا وجود مجھ میں ہی دفنا دیا گیا
بولو تمہاری ریڑھ کی ہڈی کہاں گئی
کیوں تم کو زندگی کا تماشہ دیا گیا
آنکھوں کو میری سچ سے بچانے کی فکر میں
ٹی وی کے سکرین پہ چپکا دیا گیا
سازش نہ جانے کس کی بڑی کامیاب ہے
ہر شخص اپنے آپ میں بھٹکا دیا گیا
سلیم انصاری
No comments:
Post a Comment