Wednesday, 9 March 2022

مجھ کو سزائے موت کا دھوکہ دیا گیا

 مجھ کو سزائے موت کا دھوکا دیا گیا

میرا وجود مجھ میں ہی دفنا دیا گیا

بولو تمہاری ریڑھ کی ہڈی کہاں گئی

کیوں تم کو زندگی کا تماشہ دیا گیا

آنکھوں کو میری سچ سے بچانے کی فکر میں

ٹی وی کے سکرین پہ چپکا دیا گیا

سازش نہ جانے کس کی بڑی کامیاب ہے

ہر شخص اپنے آپ میں بھٹکا دیا گیا


سلیم انصاری

No comments:

Post a Comment